چنتامنی:7 /جنوری(محمد اسلم/ایس او نیوز)چکبالاپور کے تین پولیس اہلکار سمیت چھ لوگوں کے خلاف چنتامنی مضافاتی پولس تھانہ میں اُس وقت معاملہ درج کرلیا گیا جب یہ لوگ صندل کی لکڑیوں سے خالی لاری کو باگے پلی کے قریب روک کر لاری کو فروخت کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
چنتامنی مضافاتی پولیس تھانہ کے سب انسپکٹر لیاقت اللہ سے ملی اطلاع کے مطابق 23 دسمبر 2016 کو اندھراپردیش پنگنڈہ سے KA:01D:7945 نمبر والی لاری پر صندل کے لکڑیاں بھر کر لانے کی کسی نے اطلاع دی تھی، جس پرچکبالاپور تھانہ کے پولیس اہلکار آنندنے اس اطلاع پر بنگلور کے آر پورم کے ساکن شمشیر باشاہ اور ڈرائیور فیاض کو ہدایت دی کہ وہ فورا چدلاپورا کراس کے پاس کار لے کر پہنچ جائے۔ آنند کی اس ہدایت پر شمشیر فوراََ کار لیکر چدالاپورا کراس کے گیٹ کے قریب پہنچ گیا ۔جہاں پولیس آننددو مزید پولیس اہلکاروں کے ساتھ علی الصبح 8 بجے پنگندہ کے طرف سے چکبالاپور کے طرف آرہی لاری کو باگے پلی کے قریب روک لیا، جس کے دوران لاری ڈرائیور لاری کو وہیں چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ پولیس آنند اور شمشیر ودیگر پولیس اہلکاروں نے لاری کی تلاشی لی مگر اُس میں سے صندل کی لکڑیاں برآمد نہیں ہوئی۔ جس پر تینوں پولیس اہلکاروں سمیت شمشیر اور فیاض نے مل کر لاری کو فروخت کرنے کا پلان بنایا ۔اور 24دسمبر کو چنتامنی کے ساکن مصویر کو لاری فروخت کرنے کے لئے کہا، مگر لاری فروخت نہیں ہوئی تھی، اس دوران آج جب علی صبح چنتامنی رورل پولیس اہلکارگشت لگا رہے تھیں تو پولیس اہلکاروں نے مصویر کو مشکوک حالت میں گرفتار کیا، جب اُس پر پولس نے اپنا ہتھکنڈہ آزمایا تو مصویر نے تمام واقعہ سے پولس کو آگاہ کرایا۔ خبر ملتے ہی شمشیر کو گرفتار کر کے پوچھ تاچھ کی گئی تو مزید باتوں کا خلاصہ ہوا۔ ۔سب انسپکٹر لیاقت اللہ نے آخباری نمائندوں کو بتایا پولس اہلکار آنند اور شمشیر جوے کا دھند اچلاتے ہیں ان دونوں کا پہلے سے رابطہ تھا اس معاملہ میں دو مزید پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جن کے نام کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ چکبالاپور ضلع سپرٹنڈنٹ آف پولیس چائتراڈی وائی ایس پی کرشنامورتی کے زیر نگرانی میں اس پورے معاملے کی چھان بین کے لئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہے۔